دیس ودیس کی خلقت میں تو اپنا سا لگا ہے سجن جوگی
اس گُنجانے سے ویرانے میں بجھ سا گیا ہے من جوگی
اندر بھی کالا باہر بھی کالا، ہے سیاہ یہاں ہر پیرہن جوگی
یار، رفیق بتھیرے ہیں پھر کیوں ہے اتنی گھٹن جوگی
کُوچا کُوچا گریہ کر، ہر پور تیرا آہ و زاری ہو
زرا دیکھ اس کہرِ الفت میں کتنی ہے رب کی لگن جوگی
سب دوڑ رہے ہیں سرپٹ یوں گویا بھول گئے ہیں منزل کو
نہ جیب ہے نہ رنگوں کی دھنک تیرے بخت میں بس ہے کفن جوگی
رابعہ بگٹی
No comments:
Post a Comment