Thursday, 6 January 2022

غم ضروری تھا بہت آنسو کے بننے کے لیے

غم ضروری تھا بہت آنسو کے بننے کے لیے

جبر بھی تو چاہیے آنسو نکلنے کے لیے

اے چراغو! یوں بھی ہوگا یہ ہوا تم سے ڈرے

دائمی جلنا پڑے گا شمس بننے کے لیے

جنبش چشم و لب و رخسار کی رعنائیاں

بس یہی کافی ہے ان کو یاد رکھنے کے لیے

میں بنا مٹی سے ہوں اور یہ تو ہے رنگ بشر

میں سمٹتا ہی گیا پھر سے بکھرنے کے لیے

پنچھیوں کے بیچ میں تم مت کرو ذکر بشر

پر نہیں ہے حوصلہ بنیاد اڑنے کے لیے


اویس گراچ

No comments:

Post a Comment