Wednesday, 5 January 2022

حکم نامہ زباں بندی

 حکم نامہ


سو اب یہ حکم آیا ہے

کہ اس بے فیض موسم

بے اماں صحرا میں رہنا ہے

سلگتی دھوپ اور بنجر پہاڑوں کو

شبستاں کی طرح

جنت کی مانند ہی سمجھنا ہے

کمیں گاہوں میں بیٹھے قاتلوں

کو بھی مسیحا ماننا ہے

اور روشن خواب و تازہ فکر

کو رستہ نہیں دینا

بدلتے وقت کی ہر اک ضرورت

ہر تقاضا بھول جانا ہے

یہ سارے اُجرتی قاتل

یہ مُخبر اور ان دیکھے

ستمگر فاتحوں کا جب اشارہ ہو

تو کٹھ پتلی کی مانند رقص کرنا ہے

اگر یہ عدل کی میزاں کسی جانب جُھکے

تو تم زبانیں بانجھ رکھو گے

فقط اس سمت کو سجدے میں گرنا ہے

فقط اک مرحبا کا لفظ کہنا ہے

کوئی سچ کوئی حق تمہارے حصے کا

کسی دستور جابر میں نہیں

سو چپ ہی رہنا ہے

قصیدے پڑھ تو سکتے ہو

مگر جو نام اور جو منطقے ازبر کئے جائیں

زباں سے لفظِ واحد بھی

اگر غلطی پھسلا تو

زباں پھر ہاتھ میں ہو گی

ہماری سرکشی بھی گھات میں ہو گی

سو یہ فرمانِ تازہ مل گیا میرے قبیلے کو

مگر یہ شوقِ شاہی رکھنے والوں

اور ان کے ہر مجاور کو خبر کر دو

کہ اس فرمانِ تازہ کو

غلاموں کا قبیلہ

اپنے سنگینوں سے پرزے پرزے کر کے

چل پڑے ہیں ایسے رستے پر

جہاں پر موت و آزادی کا اک یکساں تناسب اور امکاں ہے

گھٹن کے لمحوں میں

کچھ ایسے موسموں میں آنکھ کھولی ہے

کہ وحشت ناک خاموشی کا پہرہ ہے

کوئی گنبد کوئی روزن نہیں ہے جس سے ہوا آئے

سکوت مرگ کی مانند ہر سُو خامشی پھیلی

زبانیں حرف کی جادو گری سے ناشناسا ہیں

لبوں کی سرزمیں پر مسکراہٹ ہی نہیں اُگتی

ہوائے سانس بھی ہے بانجھ خوشبو سے

نظر بھی نابلد رنگوں سے خوابوں سے

عبارت روشنی کی پڑھ نہیں سکتے

مُقابل خوف ہے اور بڑھ نہیں سکتے


حماد حسن

No comments:

Post a Comment