Wednesday, 5 January 2022

گھر سے باہر کسی ورانے میں

 گھر سے باہر کسی وِرانے میں

مسئلہ کیا ہے تم کو آنے میں؟

تِری نیت میں جان لیتا ہوں

ہر نئے روز کے بہانے میں

بات سچ ہے اداس لوگوں کو

دیر لگتی ہے مسکرانے میں

غم کو اپنی حیات سے نہ نکال

کھوٹ پڑ سکتی ہے خزانے میں

ہم کو اک عمر لگی گی شاید

پھر سے اک زندگی بسانے میں

اس کی عادت بہت پسند تھی وہ

لڑکھڑاتی تھی کچھ بتانے میں

ہم بہت دور کے مسافر ہیں

وقت لگتا ہے آنے جانے میں

ایک لمحہ ہی رہ گیا ہے غدیر

موسمِ گُل کے بیت جانے میں


غازل غدیر

No comments:

Post a Comment