Wednesday, 5 January 2022

دلوں پہ چھانے لگا دھڑکنوں کی جان ہوا

دلوں پہ چھانے لگا دھڑکنوں کی جان ہُوا

جب ایک عمر گزاری، تو میں جوان ہوا

جو بولتا تھا تو مجھ سے شکایتیں تھی بہت

میں چُپ ہوا، تو اُسے خوف کا گُمان ہوا

یہی سبب ہے کہ ہر دل میں جا کے بستا ہے

مکان جس نے بنائے، وہ لا مکان ہوا

کوئی تو ہے جو حمایت میں حق کی نکلا ہے

خدا کا شکر، کہ کوئی تو ہمزبان ہوا

چلو کہ پہرے اٹھا دیں ہم اپنے جینے سے

یہ روز قسطوں میں مرنا عذابِ جان ہوا

فلک کے چاند ستاروں پہ آ گئی رونق

زمیں سے کس کا سفر رُوئے آسمان ہوا

وہ ایک پیارا سا منظر ہے میری آنکھوں میں

لڑے کھلونوں پہ بچے میں درمیان ہوا

ہلا نہ پائیں گی مجھ کو اب آندھیاں ناشر

میں بوجھ سہتے ہوئے پیڑ سے چٹان ہوا


ناشر نقوی

No comments:

Post a Comment