زندگی جیسے بد دُعا سائیں
کوئی اعجاز کر دِکھا سائیں
غم کی چادر لپیٹ کر دیکھا
ساری دُنیا ہے بے وفا سائیں
گُونگے بہروں کے شہر میں آخر
کون سُنتا تِری صدا سائیں
پاس پیسہ تو ساری دنیا دوست
ورنہ کوئی نہیں سگا سائیں
جس کی فِطرت میں رہزنی تھی فقط
وہ بنا سب کا رہنما سائیں
چل پڑے جس طرف کو جی چاہا
اپنی منزل، نہ راستہ سائیں
پھر پیے گی زمیں لہو شہزر
شہر میدانِ کربلا سائیں
مجیب الرحمٰن شہزر
No comments:
Post a Comment