رواں دواں ہے زندگی چراغ کے بغیر بھی
ہے میرے گھر میں روشنی چراغ کے بغیر بھی
تھے جس کی جستجو میں سب حریفِ کاروانِ شب
وہ راہ ہم نے ڈھونڈ لی چراغ کے بغیر بھی
محبتوں کے دِیپ ہر قدم پہ میں جلاؤں گا
ہے مجھ میں ذوقِ آگہی چراغ کے بغیر بھی
وہ زندگی جو مشعلِ وفا کی ہمرکاب تھی
گزر گئی ہنسی خوشی چراغ کے بغیر بھی
اختر سعیدی
No comments:
Post a Comment