Saturday, 18 December 2021

کبھی جو خط مجھے لکھنا محبتیں لکھنا

 کبھی جو خط مجھے لکھنا، محبتیں لکھنا

بُرا شگون ہے؛ ہر دم شکایتیں لکھنا

یہ زیست اور بھی نکھرے گی پیار کرنے سے

جو میرے ہجر میں گزریں قیامتیں لکھنا

تقاضہ تم سے کروں گی تو روٹھ جاؤ گے

پسند کب ہے مجھے بھی شکایتیں لکھنا

تم آتے جاتے رہو یہ بہت ہے میرے لیے

نہ آ سکو جو کبھی تم؛ قباحتیں لکھنا

تم اپنے شعروں میں وہ زندہ لفظ لکھو غزل

محبتوں سے ہوں پیدا کرامتیں لکھنا


غزل جعفری

No comments:

Post a Comment