Monday, 12 July 2021

اگلے پڑاؤ پر یوں ہی خیمہ لگاؤ گے

 اگلے پڑاؤ پر یوں ہی خیمہ لگاؤ گے

جتنی بھی ہے سفر کی تھکن بھول جاؤ گے

باہر ہوائے تیز لگائے ہوئے ہے گھات

گھر سے جو نکلے اب کہ پلٹ کر نہ آؤ گے

ہر شخص اپنے آپ میں مصروف ہے یہاں

کس کو فسانۂ دلِ مضطر سناؤ گے

اک دوسرے سے ہو کے الگ خوش رہے گا کون

تڑپیں گے ہم بھی خود بھی تم آنسو بہاؤ گے

جا تو رہے ہو جنسِ وفا کی تلاش میں

ساتھ اپنے یاسیت کے سوا کچھ نہ لاؤ گے

گرداب سامنے ہے، مخالف ہوائیں ہیں

کشتی کو کیسے جانبِ ساحل گھماؤ گے

جس کو خلوص سمجھے ہوئے تھے وہ کیا ہوا

کتنا یقین تھا تمہیں دھوکا نہ کھاؤ گے

پربت ہیں برف پوش قدم دیکھ بھال کر

عابد پھسل گئے تو سنبھلنے نہ پاؤ گے


عابد مناوری

No comments:

Post a Comment