Monday, 12 July 2021

باز دل یاد سے ان کی نہ ذرا بھر آیا

 باز دل یاد سے ان کی نہ ذرا بھر آیا

وہ نہ آیا تو خیال ان کا برابر آیا

ساقیا درد بھرا ہی رہا پیمانۂ چشم

سو تِری بات پہ چھلکا جو ذرا بھر آیا

آہ وہ شدتِ غم ہے کہ مِری آنکھوں سے

بوند دو بوند نہیں، ایک سمندر آیا

جس سے بچنے کیلئے بند کیں آنکھیں ہم نے

بند آنکھوں پہ بھی آگے وہی منظر آیا

یہ جو صحرا میں پھرا کرتا ہے دیوانہ سا

خود کو دنیا کے جھمیلوں سے چُھڑا کر آیا

دل کو شدت سے تمنا تھی تِرے کوچے کی

سو بڑے شوق سے اس کو میں وہاں دھر آیا


فرحت علی

No comments:

Post a Comment