تیری نظر کا یہ جادو جو چل گیا دلبر
یہ دشتِ من تو چمن میں بدل گیا دلبر
کوئی تو دل پہ قیامت گزرنے والی تھی
کہ دل سہم کے اچانک اُچھل گیا دلبر
وہ بارشوں کی طرح سے برسنے والا تھا
کیوں میری پیاس بڑھا کر بدل گیا دلبر
پریشاں رات گزاری تھی جاگ کر ساری
صبح ہوئی تو میرا دل بہل گیا دلبر
کل اس کی سرد نگاہوں میں پیار تھا کہ نہیں
میرا تو دن بھی انہی سوچوں میں ڈھل گیا دلبر
زمانہ اپنی روانی میں چل رہا تھا مگر
وہ جاتے جاتے میرا دل نِگل گیا دلبر
تاشفین فاروقی
No comments:
Post a Comment