یہ کہا سب سے دل بیمار نے
غم دئے ہیں مجھ کو میرے یار نے
دے دیا اپنائیت کا کچھ ثبوت
میرے دامن سے الجھ کر خار نے
ہاں خمیدہ ہو گئی میری کمر
بوجھ اتنا رکھ دیا سرکار نے
کر دیا مغرور نیتا کو بہت
دیش کی جنتا کی جے جے کار نے
کر دیا افسردہ یا پھر شادماں
اک ترے انکار نے اقرار نے
کر دیا یاد خدا سے بے نیاز
آج کل دنیا کے کاروبار نے
دشمنوں کو بھی ابھی کیسے جمال
میرا شیدائی بنایا پیار نے
ڈاکٹر محمد جمال
No comments:
Post a Comment