دن کی دہلیز پہ ٹھہرے ہوئے سائے بھی گئے
رات کیا آئی کہ اپنے بھی پرائے بھی گئے
عکس تعبیر کا اُبھرے، یہ تمنا ہی رہی
آئینے خواب کے آنکھوں کو دکھائے بھی گئے
تہمت خوشۂ گندم ہے ابھی تک سر پر
ہم اُچھالے بھی گئے ہم کہ گرائے بھی گئے
شجرِ درد کہ کل بھی تھا ہرا، آج بھی ہے
وقت کی دھوپ میں ہم گرچہ جلائے بھی گئے
ہم تو ان میں ہیں جو روتے ہیں تو روتے ہی رہیں
تم وہ خوش بخت کہ روئے تو ہنسائے بھی گئے
قصۂ درد بہر حال سناتی ہی رہی
گرچہ دیوار پہ سو رنگ چڑھائے بھی گئے
نصر غزالی
No comments:
Post a Comment