Tuesday, 16 November 2021

خود سوال آپ ہی جواب ہوں میں

 خود سوال آپ ہی جواب ہوں میں

زندگی کی کھلی کتاب ہوں میں

یوں تو اک جرعۂ شراب ہوں میں

گردش وقت کا جواب ہوں میں

جستجوئے سکون دل تھی مجھے

غرق دریائے اضطراب ہوں میں

میری قیمت ہے پیار کے دو بول

کتنے سستے میں دستیاب ہوں میں

کبھی نغمہ طراز تھا میں بھی

آج ٹوٹا ہوا رباب ہوں میں

رنج غم درد بے کسی حسرت

میر کا جیسے انتخاب ہوں میں

کون مجھ پر یقین لائے گا

اپنی نظروں میں خود سراب ہوں میں

پہلے سیلاب سے پریشاں تھا

اب کہ محو تلاش آب ہوں میں

مختلف رنگ ہیں مِرے عابد

کبھی جلوہ کبھی حجاب ہوں میں


عابد مناوری

No comments:

Post a Comment