کاش ایسا ہو سکتا
کاش میرا دل تجھ سے
سرسری لگا ہوتا
سرسری تعلق کا
سرسری جہاں ہوتا
میری زیست سے تیرا
سرسری گزر ہوتا
سرسری سے روز و شب
سرسری سی کچھ باتیں
راہ چلتے چلتے چند
سرسری ملاقاتیں
رسمی رسمی حال احوال
رسمی گفتگو ہوتی
کوئی عہد و پیماں نہ
کوئی آرزو ہوتی
میری سوچوں میں تیرا
عکس سرسری ہوتا
اپنے رستے جاتے ہم,
مل کے یوں گزر جاتے
جس طرح دو انجانے
اپنی راہ پہ چلتے
ساتھ چلنے والوں کو
سرسری سا تکتے ہیں
زندگی سہل ہوتی
کچھ نہ مستقل ہوتا
وصل اور فرقت بھی
یاد اور غفلت بھی
خواب اور تمنائیں
عہد وعدے اور قسمیں
عاشقی کی سب رسمیں
کچھ نہ مستقل ہوتا
زندگی سہل ہوتی
وصل کی تمنا نہ ہجر کا گماں ہوتا
سرسری جہاں ہوتا
زیست کی مسافت میں درد نہ عیاں ہوتا
سرسری جہاں ہوتا
کاش ایسا ہو سکتا
اب تو اس تعلق کی نوعیت کچھ ایسی ہے
یوں گمان ہوتا ہے
سرسری سی باتوں میں
عمر بیت جائے گی
عنبرین خان
No comments:
Post a Comment