Tuesday, 16 November 2021

ہے معمہ یا کہانی عشق ہے

 ہے معمہ یا کہانی عشق ہے

آئینے سے خود کلامی عشق ہے

ہنستے ہنستے رو پڑے پھر ہنس دئیے

کیا یہی عادت پرانی عشق ہے

اک تمنا نے جگایا تھا جنوں

اس جنوں کی پاسبانی عشق ہے

ذکر اس کا نا مکمل ہے، مگر

خاموشی کی ترجمانی عشق ہے

موت کے سب زاویے پڑھتی ہوئی

ہم سبھی کی زندگانی عشق ہے

اس کی جب شیریں بیانی کو سنا

مان بیٹھے جاودانی عشق ہے


اسلم راشد

No comments:

Post a Comment