ہے معمہ یا کہانی عشق ہے
آئینے سے خود کلامی عشق ہے
ہنستے ہنستے رو پڑے پھر ہنس دئیے
کیا یہی عادت پرانی عشق ہے
اک تمنا نے جگایا تھا جنوں
اس جنوں کی پاسبانی عشق ہے
ذکر اس کا نا مکمل ہے، مگر
خاموشی کی ترجمانی عشق ہے
موت کے سب زاویے پڑھتی ہوئی
ہم سبھی کی زندگانی عشق ہے
اس کی جب شیریں بیانی کو سنا
مان بیٹھے جاودانی عشق ہے
اسلم راشد
No comments:
Post a Comment