Saturday, 25 December 2021

باوفا ہوں مری خطا ہے یہ

 با وفا ہوں مِری خطا ہے یہ

جی رہا ہوں مِری سزا ہے یہ

اک تبسم ہزارہا آنسو

ابتدا وہ تھی انتہا ہے یہ

غم بہت محترم ہے میرے لیے

کیوں نہ ہو آپ کی عطا ہے یہ

ہجر کی لذتوں کا کیا کہنا

وہ نہ آئیں مِری دعا ہے یہ

دل مِرا توڑ دیجئے لیکن

سوچئے کس کا آئینہ ہے یہ


انجم صدیقی

No comments:

Post a Comment