Thursday, 15 December 2016

دل کہیں بھی نہیں لگتا ہو گا

دل کہیں بھی نہیں لگتا ہو گا
دل نہیں مانتا ایسا ہو گا
جتنا ہنگامہ زیادہ ہو گا
آدمی اتنا ہی تنہا ہو گا
چلتا پھرتا ہے ستارہ میرا
اب کہیں اور چمکتا ہو گا
میں نے اک بات چھپا رکھی ہے
اب اسی بات کا چرچا ہو گا

بیدل حیدری

No comments:

Post a Comment