Thursday, 15 December 2016

ترا بیمار اچھا ہو رہا ہے

تِرا بیمار اچھا ہو رہا ہے
یہ پہلی بار ایسا ہو رہا ہے
اچانک دل جو پسپا ہو رہا ہے
کہیں سے چھپ کے حملہ ہو رہا ہے
تِری تصویر اتاری جا رہی ہے
تِرے پیکر کا چربہ ہو رہا ہے
تِرے جانے سے ہر شے میں کمی ہے
بس اک صدمہ زیادہ ہو رہا ہے
دل اشکوں میں کھرل ہو گا ابھی تو
ابھی تو ریزہ ریزہ ہو رہا ہے
چلو لکھ آئیں کوئی حرف ہم بھی
ادب، دیوارِ کعبہ ہو رہا ہے
قدم اگلی صدی میں رکھ رہے ہیں
سفر پچھلی صدی کا ہو رہا ہے
اتار اس جامۂ ہستی کو بیدلؔ
یہ پیرہن پرانا ہو رہا ہے

بیدل حیدری

No comments:

Post a Comment