ہم نہ ہوئے تو کوئی افق مہتاب نہیں دیکھے گا
ایسی نیند اڑے گی پھر کوئی خواب نہیں دیکھے گا
نرمی اور مٹھاس میں ڈوبا یہی مہذب لہجہ
تلخ ہوا تو محفل کے آداب نہیں دیکھے گا
پیش لفظ سے اختتام تک پڑھنے والا قاری
لہو رلاتے، خاک اڑاتے موسم کی سفّاکی
دیکھتے ہیں کب تک یہ شہرِ گلاب نہیں دیکھے گا
بپھرے ہوئے دریا کو ہوا کا ایک اشارہ کافی
کوئی گھر، کوئی بھی گھر سیلاب نہیں دیکھے گا
بے معنی بے مصرف عمر کی آخری شام کا آنسو
ایک سبب دیکھے گا سب اسباب نہیں دیکھے گا
اک ہجرت،۔ اور ایک مسلسل در بدری کا قصہ
سب تعبیریں دیکھیں گے کوئی خواب نہیں دیکھے گا
افتخار عارف
No comments:
Post a Comment