Thursday, 15 December 2016

ہم نہ ہوئے تو کوئی افق مہتاب نہیں دیکھے گا

ہم نہ ہوئے تو کوئی افق مہتاب نہیں دیکھے گا
ایسی نیند اڑے گی پھر کوئی خواب نہیں دیکھے گا
نرمی اور مٹھاس میں ڈوبا یہی مہذب لہجہ
تلخ ہوا تو محفل کے آداب نہیں دیکھے گا
پیش لفظ سے اختتام تک پڑھنے والا قاری
جس میں ہم تحریر ہیں بس وہی باب نہیں دیکھے گا
لہو رلاتے، خاک اڑاتے موسم کی سفّاکی
دیکھتے ہیں کب تک یہ شہرِ گلاب نہیں دیکھے گا
بپھرے ہوئے دریا کو ہوا کا ایک اشارہ کافی
کوئی گھر، کوئی بھی گھر سیلاب نہیں دیکھے گا
بے معنی بے مصرف عمر کی آخری شام کا آنسو
ایک سبب دیکھے گا سب اسباب نہیں دیکھے گا
اک ہجرت،۔ اور ایک مسلسل در بدری کا قصہ
سب تعبیریں دیکھیں گے کوئی خواب نہیں دیکھے گا

افتخار عارف

No comments:

Post a Comment