بہنے لگے تو پلکوں سے لف کر دیا گیا
پھر آنسوؤں کو دُرِ نجف کر دیا گیا
کچھ قہقہوں کی گونج فلک تک سُنائی دی
کچھ سسکیوں کو تابعِ دف کر دیا گیا
جن اُنگلیوں کے زخم ابھی تک نہیں بھرے
تاریخ سے انہی کو حذف کر دیا گیا
دشتِ بدن کی پیاس بجھانی تھی، اس لیے
اشکوں کے رُخ کو دل کی طرف کر دیا گیا
غرقاب لوگ جب نہ سمندر پہنچ سکے
طُغیانیوں کو لاش بہ کف کر دیا گیا
اُترا جوان آنکھ میں جیسے ہی موتیا
آنکھوں کی پتلیوں کو صدف کر دیا گیا
بیدل محاذِ جنگ سے لوٹے جو لشکری
ساری صفوں کو ایک ہی صف کر دیا گیا
بیدل حیدری
No comments:
Post a Comment