Monday, 4 April 2022

پھر بعد میں تلاش کرے اور دہائی دے

 پھر بعد میں تلاش کرے، اور دُہائی دے

قیدِ بدن سے خود کو نہ اتنی رہائی دے

ہم سے نسیمِ صبح کے لہجے میں بات کر

ہم لوگ وہ نہیں جنہیں اونچا سنائی دے

جب تیرنے لگوں تو بھنور منتیں کریں

جب ڈوبنے لگوں تو سمندر دُہائی دے

آثار تو نہیں ہیں کہ عرفانِ ذات ہو

امکان تو نہیں کہ خدا اولیائی دے

بیدل یہ کون لوگ ہیں مصلوب دیکھنا

سب کے گلے میں ایک سا پھندا دِکھائی دے


بیدل حیدری

No comments:

Post a Comment