بہت انجان ہے، اور راہ ہے پیچیدہ پیچیدہ
چلی جاتی ہوں میں جانے کہاں رنجیدہ رنجیدہ
ہنسی میں ہی اُڑا دیتی رہی غم کے فسانے کو
مگر اب لکھ رہی ہوں داستاں سنجیدہ سنجیدہ
مسلسل جاگتے گزری ہیں فرقت کی سبھی راتیں
رہے ہیں خواب آنکھوں میں مگر خوابیدہ خوابیدہ
اگرچہ میرا اس سے رابطہ کوئی نہیں بنتا
مگر میں تکتی رہتی ہوں اسے درزیدہ درزیدہ
تمہاری یاد کے سائے رہے صحنِ گلستاں میں
مِری پلکیں رہی ہیں عمر بھر نمدیدہ نمدیدہ
میں راہِ شوق میں فرحت کسی کو ڈوھونڈنے نکلی
سفر دشوار بھی ہے اور ہے پیچیدہ پیچیدہ
فرزانہ فرحت
No comments:
Post a Comment