Monday, 4 April 2022

کون سوچے کہ سورج کے ہاتھوں میں کیا ہے

 کون سوچے کہ سورج کے ہاتھوں میں کیا ہے

ہواؤں کی تحریر پڑھنے کی فرصت کسی کو نہیں

کون ڈھونڈے

فضاؤں میں تحلیل رستہ

کون گزرے سوچ کے ساحلوں سے

خواہشوں کی سلگتی ہوئی ریت کو

کون ہاتھوں میں لے

کون اترے سمندر کی گہرائیوں میں

چاندنی کی جواں انگلیوں میں

انگلیاں کون ڈالے

کون سمجھے مِرے فلسفے کو

جلد ہی یہ سفر ختم ہونے کو ہے

کسی بے نام و نشاں لمحے میں دل چاہتا ہے

دوریاں

بس مِری مٹھی میں سمٹ کر رہ جائیں

ڈوریاں خیمہ تنہائی کی کٹ کر رہ جائیں


اسعد بدایونی

No comments:

Post a Comment