Sunday, 10 January 2016

سن سکے تو سن لے یہ آخری کہانی ہے

سن سکے تو سن لے یہ آخری کہانی ہے
وقت کی صدا ہے یہ وقت کی کہانی ہے
بھولنا بھی چاہو گی تو بھلا نہ پاؤ گی
پیڑ پیڑ پر لکھی اب میری کہانی ہے
اہل دل ہی کہتے ہیں اہل دل ہی سنتے ہیں
چاند ایک نغمہ ہے چاندنی کہانی ہے
زرد زرد چہرے ہیں سرخ سرخ آنکھیں ہیں
اس نگر کا ہر باسی ان کہی کہانی ہے
رنگ رنگ کوچوں میں پھول پھول گلیوں میں
تیرا ہی فسانہ ہے، تیری ہی کہانی ہے
شامؔ اتنی جلدی کیوں لوگ بھول جاتے ہیں
کل کا ہی تو قصہ ہے کل کی ہی تو کہانی ہے

محمود شام

No comments:

Post a Comment