اونے پونے غزلیں بیچیں، نظموں کا بیوپار گیا
دیکھو ہم نے پیٹ کی خاطر کیا کیا کاروبار کیا
اس بستی کے لوگ تو تھے سب چلتی پھرتی دیواریں
ہم نے رنگ لٹاتی شب سے، اجلے دنوں سے پیار کیا
ذہن سے اک اک کر کے تیری ساری باتیں اتر گئیں
اپنا آپ بھی کھویا ہم نے لوگوں سے بھی چھُوٹا ساتھ
اک سائے کی دھن نے ہم کو کیسے کیسے خوار کیا
سارےعہد کا بوجھ تھا سر پر دل میں سارے جہاں کا غم
وقت کا جلتا بنتا صحرا ہم نے جس دم پار کیا
جاگتی گلیوں، اونچے گھروں میں زرد اندھیرا ناچتا ہے
جس لمحے سے ہم ڈرتے تھے اس نے آخر وار کیا
شام کی ٹھنڈی آہوں میں بھی تیری خوشبو شامل تھی
رات گئے تک پیڑوں نے بھی تیرا ذکر اذکار کیا
محمود شام
No comments:
Post a Comment