تجھ سے جس وقت کہ خالی یہ مکاں رہتا ہے
مجھ کو تنہائی میں، پہروں خفقاں رہتا ہے
شکوہ ہم کرتے ہیں کیوں، رسم ہے دنیا کی یہی
دل جو لگتا ہے، تو پھر پاس کہاں رہتا ہے
جو تِرے پاس سے آتا ہے، میں پوچھوں ہوں یہی
کیوں جی! کچھ ذکر ہمارا بھی وہاں رہتا ہے؟
پنکھڑی گُل کی جو کروٹ تلے اس کے آئے
نازک اتنا ہے بدن اس کا، نشاں رہتا ہے
اس ستمگر سے ہمارے، جو کسی نے پوچھا
کوئی رنگیں بھی تِرے کوچے میں یاں رہتا ہے
سعادت یار خاں رنگیں
No comments:
Post a Comment