اب پھر سے محبت کا بھی امکاں تو نہیں ہے
پھر تم سے رقابت کا بھی امکاں تو نہیں ہے
الفت کے بھی انجام سے ڈر لگتا ہے مجھ کو
اب ان سے قرابت کا بھی امکاں تو نہیں ہے
دل کو تو انہیں پانے کی چاہت نہ رہی اب
پھر نامہ و چاہت کا بھی امکاں تو نہیں ہے
ان کی گلی سے دور ہی رہتا ہوں ہمیشہ
دل میں نئی نسبت کا بھی امکاں تو نہیں ہے
بسمل ہوئے، نخچیر ہوئے، ایسے سدا ہم
پھر سے کسی کلفت کا بھی امکاں تو نہیں ہے
معین لہوری رمزی
No comments:
Post a Comment