Friday, 9 September 2022

تم منہ لگا کے غیروں کو مغرور مت کرو

 تم منہ لگا کے غیروں کو مغرور مت کرو

لگ چلنا ایسے دیسوں سے دستور مت کرو

ٹسوے بہا کے ہر گھڑی زاری نہیں ہے خوب

یہ راز عشق ہے اسے مشہور مت کرو

ہر چند دل دُکھانا کسی کا برا ہے پر

رنجیدہ خاطروں کو تو رنجور مت کرو

اے ہمدمو جو مجھ سے ہے منظور اختلاط

جُز ذکرِ یار تم کوئی مذکور مت کرو

روشن رکھو جہان میں مولا مثال مہر

چندہ کے منہ سے نور کو تم دور مت کرو


ماہ لقا چندا

No comments:

Post a Comment