Friday, 9 September 2022

ستاؤں مہر و ماہ کو آج ستاروں کو چھیڑوں

 ستاؤں مہر و ماہ کو آج ستاروں کو چھیڑوں

خیال حسن انسان کے اشاروں کو چھیڑوں

تجھے میں گل کہوں تو پھولوں کو ناز ہو خود پہ

تمہارا نام لے کر میں نظاروں کو چھیڑوں

لبوں کی بات کر کے مستئ شوق کے ساتھ

جنت میں بہنے والے جوئیباروں کو چھیڑوں

آئے وادی میں اتر حسنِ بہارِ عمر

تُو میرے ساتھ تو چل میں بہاروں کو چھیڑوں

سازمیں ڈھل جاتی ہے تیرے خیال کی مٹھاس

کبھی ستار اٹھا کے جب بھی تاروں کو چھیڑوں

ہاں، مسکراؤ ناں تم، غنچے چٹک رہے ہیں

زلف بکھراؤ ناں تم، ابر پاروں کو چھیڑوں

آج بُھولے سے اگر نام حضرت کا لیا

اس نے سوچا ہی ہو گا غم کے ماروں کو چھیڑوں


حضرت سرحدی

No comments:

Post a Comment