آنکھیں نکال، درد کے منظر میں ڈال دے
سِکّے یہ نور کے کسی چادر میں ڈال دے
یہ بوجھ لے کے پھرتا رہے گا کہاں کہاں
جتنی بھی نیکیاں ہیں سمندر میں ڈال دے
یہ نرم التماس کے لہجے کو ترک کر
وہ چیخ بن شگاف جو پتھر میں ڈال دے
یہ تاج ہی تو ہے کوئی دستار تو نہیں
اس کو کسی فقیر کی ٹھوکر میں ڈال دے
حافظ زمیں پہ کل جنہیں ہونا ہے رونما
اُن سارے حادثوں کو مرے گھر میں ڈال دے
حافظ کرناٹکی
امجد حسین
No comments:
Post a Comment