Friday, 9 January 2026

عقل کی اک نہ سنی عشق کو استاد کیا

 عقل کی اِک نہ سنی عشق کو اُستاد کِیا 

ہم نے لبیک کہا، دل نے جو اِرشاد کیا 

اُس نے لیلیٰ کبھی ہیر اور کبھی شیریں بن کر 

ہم کو مجنوں، کبھی رانجھا، کبھی فرہاد کیا 

اِک شکاری کو تِرے غم نے بنایا قیدی 

اِک پرندے کو تِرے عشق نے آزاد کِیا 

یہاں تسلِیم ہی تسلِیم ہے، تحقِیق نہیں 

مکتبِ عشق میں ہم نے یہ سبق یاد کِیا 

تیری چادر نے عطا کی ہے دھنک کو رنگت 

تیری پائل کی کھنک نے سخن ایجاد کِیا 


وکیل احمد حیات

No comments:

Post a Comment