چمن یہ پیار کا اُجڑا دکھائی دیتا ہے
قدم قدم پہ جو خطرہ دکھائی دیتا ہے
نظر اٹھا کے جہاں میں جدھر بھی میں دیکھوں
ہر ایک سُو تِرا جلوہ دکھائی دیتا ہے
نگر نگر جو معزز تھا، معتبر تھا کبھی
ڈگر ڈگر وہی رُسوا دکھائی دیتا ہے
فریب آنکھ کا ہے یا خمارِ بادہ و مے
یہ آئینہ مجھے اُلٹا دکھائی دیتا ہے
جلا عدو کا جو گھر تو حسد میں اے امجد
مِرا بھی گھر اسے جلتا دکھائی دیتا ہے
امجد اکبر
No comments:
Post a Comment