Tuesday, 20 April 2021

چمن یہ پیار کا اجڑا دکھائی دیتا ہے

 چمن یہ پیار کا اُجڑا دکھائی دیتا ہے​

قدم قدم پہ جو خطرہ دکھائی دیتا ہے​

نظر اٹھا کے جہاں میں جدھر بھی میں دیکھوں​

ہر ایک سُو تِرا جلوہ دکھائی دیتا ہے​

نگر نگر جو معزز تھا، معتبر تھا کبھی​

ڈگر ڈگر وہی رُسوا دکھائی دیتا ہے

​فریب آنکھ کا ہے یا خمارِ بادہ و مے​

یہ آئینہ مجھے اُلٹا دکھائی دیتا ہے​

جلا عدو کا جو گھر تو حسد میں اے امجد

مِرا بھی گھر اسے جلتا دکھائی دیتا ہے​


امجد اکبر

No comments:

Post a Comment