Tuesday, 20 April 2021

نظر کا سلسلہ دیکھا ہے ہم نے

 نظر کا سلسلہ دیکھا ہے ہم نے

تمہارا دیکھنا دیکھا ہے ہم نے

ہم اپنا حوصلہ تو ہار بیٹھے

تمہارا حوصلہ دیکھا ہے ہم نے

تمہارا عکس دیکھا شاعری میں

کوئی تو دوسرا دیکھا ہے ہم نے

جسے دیکھا، اسے جی بھر کے دیکھا

تمہیں اس سے سوا دیکھا ہے ہم نے

کہیں بھی اور ہریالی نہ دیکھی

کہ زخمِ دل ہرا دیکھا ہے ہم نے

ملاقاتوں سے جو صدمہ ملا ہے

جدائی سے جدا دیکھا ہے ہم نے

کوئی دعویٰ نہیں ہے دیکھنے کا

تمہارا راستہ دیکھا ہے ہم نے

محبت کی طلبگاری میں ثاقب

دوبارہ آئینہ دیکھا ہے ہم نے


آصف ثاقب

No comments:

Post a Comment