نظر کا سلسلہ دیکھا ہے ہم نے
تمہارا دیکھنا دیکھا ہے ہم نے
ہم اپنا حوصلہ تو ہار بیٹھے
تمہارا حوصلہ دیکھا ہے ہم نے
تمہارا عکس دیکھا شاعری میں
کوئی تو دوسرا دیکھا ہے ہم نے
جسے دیکھا، اسے جی بھر کے دیکھا
تمہیں اس سے سوا دیکھا ہے ہم نے
کہیں بھی اور ہریالی نہ دیکھی
کہ زخمِ دل ہرا دیکھا ہے ہم نے
ملاقاتوں سے جو صدمہ ملا ہے
جدائی سے جدا دیکھا ہے ہم نے
کوئی دعویٰ نہیں ہے دیکھنے کا
تمہارا راستہ دیکھا ہے ہم نے
محبت کی طلبگاری میں ثاقب
دوبارہ آئینہ دیکھا ہے ہم نے
آصف ثاقب
No comments:
Post a Comment