اپنا شعور اپنی انا کھو چکے ہیں ہم
اب جاگنا پڑے گا بہت سو چکے ہیں ہم
اب کون بڑھ کے ہم کو گلے سے لگائے گا
کانٹے تو اپنے چاروں طرف بو چکے ہیں ہم
احساسِ کمتری کا ہوئے ہیں شکار یوں
اب احتجاج تک کا ہنر کھو چکے ہیں ہم
اب راہ تک رہے ہیں ابابیلیں آئیں گی
حاصل جو تھا دعا میں اثر کھو چکے ہیں ہم
کب تک نصیب ساتھ ہمارا نبھائے گا
اب اتنی بار پا کے تجھے کھو چکے ہیں ہم
مرنے کے بعد دیں، تو تِرا ہی حساب دیں
تا عمر زندگی تو تجھے ڈھو چکے ہیں ہم
شکوہ اگر کریں تو کریں کس زبان سے؟
اک حق تھا اپنے پاس جسے کھو چکے ہیں ہم
اب تو ہمارے ہونٹوں کو مُسکان بخش دے
اب تو نصیب سے بھی سوا رو چکے ہیں ہم
عادل رشید
No comments:
Post a Comment