Tuesday, 20 April 2021

اپنا شعور اپنی انا کھو چکے ہیں ہم

 اپنا شعور اپنی انا کھو چکے ہیں ہم

اب جاگنا پڑے گا بہت سو چکے ہیں ہم

اب کون بڑھ کے ہم کو گلے سے لگائے گا

کانٹے تو اپنے چاروں طرف بو چکے ہیں ہم

احساسِ کمتری کا ہوئے ہیں شکار یوں

اب احتجاج تک کا ہنر کھو چکے ہیں ہم

اب راہ تک رہے ہیں ابابیلیں آئیں گی

حاصل جو تھا دعا میں اثر کھو چکے ہیں ہم

کب تک نصیب ساتھ ہمارا نبھائے گا

اب اتنی بار پا کے تجھے کھو چکے ہیں ہم

مرنے کے بعد دیں، تو تِرا ہی حساب دیں

تا عمر زندگی تو تجھے ڈھو چکے ہیں ہم

شکوہ اگر کریں تو کریں کس زبان سے؟

اک حق تھا اپنے پاس جسے کھو چکے ہیں ہم

اب تو ہمارے ہونٹوں کو مُسکان بخش دے

اب تو نصیب سے بھی سوا رو چکے ہیں ہم​


عادل رشید

No comments:

Post a Comment