Tuesday, 20 April 2021

اس نے دل زور سے دیوار پہ مارا ہو گا

 اس نے دل زور سے دیوار پہ مارا ہو گا

جب محبت میں مقدر سے وہ ہارا ہو گا

اور صدیوں کی تھکن ٹوٹ کے گر جائے گی

جب تِری دید کا پُر کیف نظارا ہو گا

عشق مجھ کو بھی اسی پار ذرا لے کر چل

جس جگہ ٹوٹ کے گرتا کوئی تارا ہو گا

یوں کبھی ہجر کی بانہوں میں سسک کر دیکھو

جیسا گزرے گا سبھی وقت تمہارا ہو گا

شام کے سائے مجھے راس نہیں آتے کہیں

میں تِرے شہر سے جاؤں کہاں چارا ہو گا


وشال سحر

No comments:

Post a Comment