ہمیں چراغ کا پہلے خیال کرنا ہے
پھر اس کے بعد ہوا سے سوال کرنا ہے
مِرے عروج پہ تہمت لگا رہے ہیں وہی
جو چاہتے ہیں شریکِ زوال کرنا ہے
زرا سی سانسیں بچا لوں نئی سحر کیلئے
اب اپنے آپ کو کتنا نڈھال کرنا ہے
جنوں کو دشت میں لازم ہے اتنا ہوش رہے
کہاں سکوت کہاں پر دھمال کرنا ہے
وہی کہوں گا جو جذبوں کو مطمئن کر دے
غزل میں کون سا مجھ کو کمال کرنا ہے
تُو مجھ سے دور ہی رہ اے مِری حسیں دنیا
مجھے گناہوں پہ اپنے ملال کرنا ہے
ابھی میں عکس کے غصے سے خود پریشاں ہوں
پھر آئینے کی الگ دیکھ بھال کرنا ہے
سیاہ رنگ سے کی آسمان کی پینٹنگ
یہ جو زمیں ہے ابھی اس کو لال کرنا ہے
مِرے لیے تو ہے دلشاد قیمتی ہر دن
تمہیں تو ہفتوں مہینوں میں سال کرنا ہے
دلشاد نظمی
No comments:
Post a Comment