کبھی جب فون کی سکرین پر
نمبر تمہارا جگمگاتا ہے
اور اک مخصوص سی گھنٹی
سماعت کے دریچوں کو
ذرا سا کھٹکھٹاتی ہے
مِرے دل کے نہاں خانے میں
کچھ معصوم جذبوں کے
اچانک تار بجتے ہیں
دلِ نازک کی دھڑکن کی
عجب ترتیب ہوتی ہے
مِری سانسوں کے سرگم میں
عجب سُر تال بجتے ہیں
اُداسی میں لپٹتی روح
گویا رقص کرتی ہے
سماعت پھر وہی مدھر سی
اک آواز سننے کو
بہت بے تاب ہوتی ہے
تمہارا دلنشین لہجہ
وہی آواز جو
میری سماعت میں
اُترتی ہے تو
دل میں چار سُو ایسے
اُجالے پھیل جاتے ہیں
کہ جیسے رات کی تاریکیوں میں
دن نکل آئے
سماعت میں اُترتی
روح کی بنجر زمیں تک جب
یہی آواز پہنچے تو
عجب سا ایک نشہ
میرے تن من کو
کبھی صندل بناتا ہے
کبھی عنبر بناتا ہے
کڑکتی دھوپ میں جیسے
کوئی بادل برستا ہے
میں اکثر عین ان لمحوں میں
چاہوں کہ امنگوں کی ہری شاخیں
سبھی پھولوں سے بھر جائیں
تو منظر برف ہو جائیں
یہیں لمحے ٹھہر جائیں
سعدیہ کوکب
No comments:
Post a Comment