Friday, 10 September 2021

گلہ نہیں ہے کہ ہم کو خوشی کبھی نہ ملی

 گلہ نہیں ہے کہ ہم کو خوشی کبھی نہ ملی

مگر تلاش تھی جس کی فقط وہی نہ ملی

یہ غم تو سب سے ملانے کو ہاتھ ہے تیار

خوشی کا کیا ہے کسی سے ملی ملی نہ ملی

امیرِ شہر کرونا کے ڈر سے گھر میں ہے

غریبِ شہر کو روزی پھر آج بھی نہ ملی

ہمیں نہ چاہیۓ درد و الم کی آمد و رفت

نہ رنج ہو گا کوئی بھی اگر خوشی نہ ملی

اسی کو کھوجتے پھرتے ہیں ہم سویرے سے

ہمیں جو خواب میں کل رات اک حسینہ ملی

ثمر کی آس ہی بے کار تھی کہ گلشن میں

ہمیں تو شاخ کسی پیڑ کی جھکی نہ ملی

قصور اصل میں ان کے ہی نظریۓ کا ہے

جو ان کو فطرتِ انجم میں عاجزی نہ ملی


شاداب انجم

No comments:

Post a Comment