گلہ نہیں ہے کہ ہم کو خوشی کبھی نہ ملی
مگر تلاش تھی جس کی فقط وہی نہ ملی
یہ غم تو سب سے ملانے کو ہاتھ ہے تیار
خوشی کا کیا ہے کسی سے ملی ملی نہ ملی
امیرِ شہر کرونا کے ڈر سے گھر میں ہے
غریبِ شہر کو روزی پھر آج بھی نہ ملی
ہمیں نہ چاہیۓ درد و الم کی آمد و رفت
نہ رنج ہو گا کوئی بھی اگر خوشی نہ ملی
اسی کو کھوجتے پھرتے ہیں ہم سویرے سے
ہمیں جو خواب میں کل رات اک حسینہ ملی
ثمر کی آس ہی بے کار تھی کہ گلشن میں
ہمیں تو شاخ کسی پیڑ کی جھکی نہ ملی
قصور اصل میں ان کے ہی نظریۓ کا ہے
جو ان کو فطرتِ انجم میں عاجزی نہ ملی
شاداب انجم
No comments:
Post a Comment