عمارت گر بھی جائے تو کھنڈر موجود رہتا ہے
کٹے ہاتھوں کا دنیا میں ہُنر موجود رہتا ہے
اگرچہ شہر میں اپنے درندے قید ہیں سارے
ہر اک بیٹی کے دل میں پھر بھی ڈر موجود رہتا ہے
بھٹک کر دشت و صحرا میں تو منزل مل ہی جاتی ہے
مگر پیروں کے چھالوں میں سفر موجود رہتا ہے
کوئی بھی حادثہ دب جائے گا مٹی تلے پھر بھی
ہمارے ذہن پر اس کا اثر موجود رہتا ہے
سمندر کو بھلے پی کر یہ سورج راکھ کر ڈالے
شکستہ سیپیوں میں بھی گُہر موجود رہتا ہے
بچا کر جابروں سے جو یہاں دستار لے آئے
اسی جرّار کے کاندھوں پہ سر موجود رہتا ہے
پرویز مانوس
No comments:
Post a Comment