دل ہے کہ جانے کیوں یہ تِری آرزو کرے
جب تُو نہ سامنے ہو تری گفتگو کرے
اک تُو کہ آسماں کی بلندی سے بھی بلند
اک یہ زمیں پہ رہ کے تِری جستجو کرے
ممکن نہیں ہے تجھ سے ملاقات زندگی
تُو کون ہے جو پھر بھی تِری آرزو کرے
تُو جا چکا ہے چھوڑ کر تو جا اب الوداع
کوئی کہاں تلک میاں! یہ ہاؤ ہو کرے
کوکب کہیں بھی ہے تو لے آج عمر بھر
میری طرح سے ذکر تِرا با وضو کرے
سعدیہ کوکب
No comments:
Post a Comment