اپنے ہونے کی کیا دُہائی دیں
کوئی دیکھے تو ہم دکھائی دیں
ایک دل جو نہیں سنبھال سکے
ان کے ہاتھوں میں کیا خدائی دیں
دل کی مسند پہ لا بٹھایا ہے
اب کہاں تک تمہیں رسائی دیں
کب سے آواز دے رہے ہیں اسے
بھیڑ کم ہوتو ہم سنائی دیں
گر یقیں ہے تو سلسلہ رکھو
ورنہ ہم روز کیا صفائی دیں
توڑ ڈالے ہیں بال و پر کوکب
ان سے کہہ دو کہ اب رہائی دیں
سعدیہ کوکب
No comments:
Post a Comment