Sunday, 6 June 2021

راستے میں پڑا ہوا سایہ

 راستے میں پڑا ہُوا سایا

میرے سُوکھے شجر کے کام آیا

تخلیہ چاہئے تھا، لیکن میں

خود کو بھی ساتھ ہی اُٹھا لایا

میں نے دیوار کی سُنی ہی نہیں

اپنی سسکی بھی اس پہ ٹانک آیا

خود کو بے دخل کر کے تھوڑی سی

خود میں اس کی جگہ بنا پایا

دُکھ تو یہ ہے خوشی کے موقع پر

پھول بھیجے ہیں، خود نہیں آیا

خود پہ میری تلاش ختم ہوئی

میں مجھے آپ ڈھونڈ کر لایا

مجھ کو لُٹنے کا ڈر نہیں، انجم

میرے سر میں ہے میرا سرمایا


انجم سلیمی

No comments:

Post a Comment