Sunday, 6 June 2021

خوشی کا خول چڑھا کر اداس اندر سے

 خوشی کا خول چڑھا کر اداس اندر سے

اسی لیے تو بہت ہوں میں خاص اندر سے

بس ایک آپ کے چہرے پہ تازگی آئی

وگرنا عشق تو آتا ہے راس اندر سے

ابھی تو عکس کسی کے بدن کا دیکھا ہے

ابھی تو آنکھ نے دیکھی کپاس اندر سے

کبھی بتاؤں یہ سب کو کہ خوش نہیں ہوں میں

میں چیخ چیخ نکالوں بھڑاس اندر سے

کہ اس میں پھول ہیں خوشبو ہے اور رنگت بھی

یہ کوئی باغ ہے تیرا لباس اندر سے

کسی نے دل سے پکارا ابھی ہمارا نام

ہمارے کان میں آئی مٹھاس اندر سے


ندیم راجہ

No comments:

Post a Comment