خوشی کا خول چڑھا کر اداس اندر سے
اسی لیے تو بہت ہوں میں خاص اندر سے
بس ایک آپ کے چہرے پہ تازگی آئی
وگرنا عشق تو آتا ہے راس اندر سے
ابھی تو عکس کسی کے بدن کا دیکھا ہے
ابھی تو آنکھ نے دیکھی کپاس اندر سے
کبھی بتاؤں یہ سب کو کہ خوش نہیں ہوں میں
میں چیخ چیخ نکالوں بھڑاس اندر سے
کہ اس میں پھول ہیں خوشبو ہے اور رنگت بھی
یہ کوئی باغ ہے تیرا لباس اندر سے
کسی نے دل سے پکارا ابھی ہمارا نام
ہمارے کان میں آئی مٹھاس اندر سے
ندیم راجہ
No comments:
Post a Comment