جو کچھ کیا ہے عیب چھپانے کے واسطے
ہے سارا کھیل خود کو بچانے کے واسطے
علم و شعور و فکر کی زنجیر کاٹ کر
جو کچھ بچا، وہ لائی دِوانے کے واسطے
اک دوسرے کی ذات سے کیوں ہم نکل گئے
خود اپنے واسطے، کہ زمانے کے واسطے
سب جوش و ولولے کو دبانا پڑا ہمیں
ہم بھی ہیں پُر سکون دِکھانے کے واسطے
لفظوں کے ہیر پھیر نے معنی بدل دئیے
بدلا گیا خیال فسانے کے واسطے
اچھا ہوا کہ لہر مِرے خواب لے گئی
رکھے تھے ورنہ میں نے جلانے کے واسطے
رض اپنی دُھن میں چلتے چلے جا رہے ہیں لوگ
محوِ سفر ہیں ایک ٹھکانے کے واسطے
رضوانہ ملک
No comments:
Post a Comment