Sunday, 6 June 2021

حسیں برگد کے سائے میں ملاقاتیں پڑی ہوں گی

 حسیں برگد کے سائے میں ملاقاتیں پڑی ہوں گی

کہیں لہجے پڑے ہوں گے کہیں باتیں پڑی ہوں گی

چلو ان کو اُٹھا کر اب کسی فائل میں رکھتے ہیں

مزاروں پر محبت کی مناجاتیں پڑی ہوں گی

تمہاری کامیابی میں بہت سے ہاتھ شامل تھے

تم اپنی جیت میں دیکھو کئی ماتیں پڑی ہوں گی

بڑے خوشحال ہیں لیکن تمہارے ساتھ رو لیں گے 

ہماری آنکھ میں اتنی تو برساتیں پڑی ہوں گی

محبت مار ڈالو گے تو اگلی نسل میں ساجد

کہیں مذہب کہیں فرقے کہیں ذاتیں پڑی ہوں گی


لطیف ساجد

No comments:

Post a Comment