Sunday, 6 June 2021

تم سے مل کر میں نے رکھ دیں اپنی آنکھیں پوروں میں

 میں تم ہو جاتی ہوں


تم سے مل کر میں نے رکھ دیں

اپنی آنکھیں پوروں میں

اور سماعت مختص کر دی

نین و نقش بنانے کو

سچ پوچھو تو میں نے جیسے

خود کو ہی دریافت کیا

کتنی تقصیریں تھیں جن کو

بند آنکھوں سے معاف کیا

یہ رنگوں کی رنگیں دنیا

اب اتنی رنگین نہیں

آنکھ نہ دیکھے آنکھ میں نفرت

تو کچھ بھی سنگین نہیں

جب بارش کی بوند ہتھیلی کے طبلے پر بجتی ہے

تنہا گونگی چوڑی جب جب چپکے چپکے ہنستی ہے

آوازیں جب پہن کے ریشم مجھ سے ملنے آتی ہیں

جب خوشبو کی لپٹیں میرے گالوں سے ٹکراتی ہیں

تب احساس کی گیلی مٹی تلووں سے چپکاتی ہوں

اور میں تم ہو جاتی ہوں


شازیہ اکبر

No comments:

Post a Comment