میں تم ہو جاتی ہوں
تم سے مل کر میں نے رکھ دیں
اپنی آنکھیں پوروں میں
اور سماعت مختص کر دی
نین و نقش بنانے کو
سچ پوچھو تو میں نے جیسے
خود کو ہی دریافت کیا
کتنی تقصیریں تھیں جن کو
بند آنکھوں سے معاف کیا
یہ رنگوں کی رنگیں دنیا
اب اتنی رنگین نہیں
آنکھ نہ دیکھے آنکھ میں نفرت
تو کچھ بھی سنگین نہیں
جب بارش کی بوند ہتھیلی کے طبلے پر بجتی ہے
تنہا گونگی چوڑی جب جب چپکے چپکے ہنستی ہے
آوازیں جب پہن کے ریشم مجھ سے ملنے آتی ہیں
جب خوشبو کی لپٹیں میرے گالوں سے ٹکراتی ہیں
تب احساس کی گیلی مٹی تلووں سے چپکاتی ہوں
اور میں تم ہو جاتی ہوں
شازیہ اکبر
No comments:
Post a Comment