مجھے اب بھی اس سے ہی پیار ہے
جسے نظم نظم میں لکھ دیا
جو غزل غزل کا خیال ہے
جسے یاد کر کے خلش بڑھے
جسے بھولنا بھی محال ہے
کئی وصف اس کے کمال تھے
جو مری سمجھ میں نہ آ سکے
کبھی انتہا کی سپردگی
کبھی اس طرح کہ ہو اجنبی
کبھی بے پناہ محبتیں
کبھی جاں گسل کرے بے رخی
کبھی پور پور ترس رہے
کبھی روم روم میں بس گئی
اسے کتنے میں نے لقب دئیے
کبھی جانِ من، کبھی زندگی
کبھی دلربا، کبھی شاعری
جسے سوچنے سے سکوں ملے
جو اداسیوں میں خوشی بنے
جو سدا رہی میرے روبرو
میری دھڑکنوں کی وہ آرزو
میری زندگی میں نہیں رہی
کبھی سوچتا ہوں کہ کیا ہوا
ابھی تک تو سب کچھ ہی ٹھیک تھا
نہ وہ بے وفا نہ میں بے وفا
اسے بس بچھڑنے کا خوف تھا
سو وہ خوف اس نے مٹا دیا
مجھے خامشی سے گنوا دیا
اسے میں کبھی نہ بھلا سکا
مجھے اب بھی اس سے ہی پیار ہے
عطش نقوی
No comments:
Post a Comment