Monday, 7 June 2021

کاش کہ میں اک گڑیا ہوتی

 کاش کہ


کاش کہ میں اک گڑیا ہوتی

تیرے کمرے کے کونے میں

رکھی ہوئی الماری کے

اک خانے میں

خاموشی سے بیٹھی رہتی

کچھ سنتی

اور نہ کچھ کہتی

دُور سے تجھ کو تکتی رہتی


کاش کہ میں اک چڑیا ہوتی

تیرے نقشِ کفِ پا سے میں

تنکے چُنتی

تیرے گھر آنگن کے پیڑ پہ

تنکوں سے اک گھونسلا بُنتی

صبح سویرے حمد و ثنا کے

میٹھے میٹھے گیت سُناتی

تجھے جگاتی

اپنے پروں میں پانی بھر کر

تیرے بکھرے بال بِھگوتی

شانہ کرتی/سر سہلاتی


کاش کہ میں اک تتلی ہوتی

کیاری کیاری گھومتی رہتی

نرگس کے ہر پھول کو

تیری آنکھ سمجھتی

جھومتی رہتی

سرخ گلابوں کی پتیوں کو

تیرے رسیلے ہونٹ سمجھتی

چومتی رہتی

اپنے پروں کے سارے رنگ

میں تیرے گالوں میں بھر جاتی

جیون تجھ پر وار کے ساجن

تیرے قدموں میں مر جاتی


سعدیہ کوکب

No comments:

Post a Comment