کاش کہ
کاش کہ میں اک گڑیا ہوتی
تیرے کمرے کے کونے میں
رکھی ہوئی الماری کے
اک خانے میں
خاموشی سے بیٹھی رہتی
کچھ سنتی
اور نہ کچھ کہتی
دُور سے تجھ کو تکتی رہتی
کاش کہ میں اک چڑیا ہوتی
تیرے نقشِ کفِ پا سے میں
تنکے چُنتی
تیرے گھر آنگن کے پیڑ پہ
تنکوں سے اک گھونسلا بُنتی
صبح سویرے حمد و ثنا کے
میٹھے میٹھے گیت سُناتی
تجھے جگاتی
اپنے پروں میں پانی بھر کر
تیرے بکھرے بال بِھگوتی
شانہ کرتی/سر سہلاتی
کاش کہ میں اک تتلی ہوتی
کیاری کیاری گھومتی رہتی
نرگس کے ہر پھول کو
تیری آنکھ سمجھتی
جھومتی رہتی
سرخ گلابوں کی پتیوں کو
تیرے رسیلے ہونٹ سمجھتی
چومتی رہتی
اپنے پروں کے سارے رنگ
میں تیرے گالوں میں بھر جاتی
جیون تجھ پر وار کے ساجن
تیرے قدموں میں مر جاتی
سعدیہ کوکب
No comments:
Post a Comment