ہوں بھلے شہد سے میٹھی یا کہ کھاری باتیں
ہم نے سینے سے لگائی ہیں تمہاری باتیں
سانس تھامے ہوئے چپ چاپ میں سنتا جاؤں
کس قدر پیار سے کرتی ہے وہ پیاری باتیں
وہ اگر بول پڑے، جو کسی مندر آ کر
تو بھجن چھوڑ کے سنتا ہے پُجاری باتیں
آج اظہارِ محبت ہے جو ان سے کرنا
آج پھر دیر تلک ہم نے سنواری باتیں
ہم محبت کے مبلغ رہے برسوں جگ میں
یاد رکھیں گے سدا لوگ ہماری باتیں
میری نس نس میں پھر اک شہد سا گھُل جاتا ہے
مجھ کو جب چھُو بھی جو لیتی ہیں تمہاری باتیں
کیوں مسالک کو مسالک سے لڑایا تم نے
ایک مُلا کو سنائی ہیں کراری باتیں
یاوہ گوئی تو ہماری نہیں عادت ساگر
ہم نے تہذیب کے چھنے سے گزاری باتیں
مسعود ساگر
No comments:
Post a Comment