Monday, 7 June 2021

ہوں بھلے شہد سے میٹھی یا کہ کھاری باتیں

 ہوں بھلے شہد سے میٹھی یا کہ کھاری باتیں

ہم نے سینے سے لگائی ہیں تمہاری باتیں

سانس تھامے ہوئے چپ چاپ میں سنتا جاؤں

کس قدر پیار سے کرتی ہے وہ پیاری باتیں

وہ اگر بول پڑے، جو کسی مندر آ کر

تو بھجن چھوڑ کے سنتا ہے پُجاری باتیں

آج اظہارِ محبت ہے جو ان سے کرنا

آج پھر دیر تلک ہم نے سنواری باتیں

ہم محبت کے مبلغ رہے برسوں جگ میں

یاد رکھیں گے سدا لوگ ہماری باتیں

میری نس نس میں پھر اک شہد سا گھُل جاتا ہے

مجھ کو جب چھُو بھی جو لیتی ہیں تمہاری باتیں

کیوں مسالک کو مسالک سے لڑایا تم نے

ایک مُلا کو سنائی ہیں کراری باتیں

یاوہ گوئی تو ہماری نہیں عادت ساگر

ہم نے تہذیب کے چھنے سے گزاری باتیں


مسعود ساگر

No comments:

Post a Comment